عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم منتخب

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے، عمران خان نیازی نے 176ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل وزیراعظم کے نامزد اُمیدوار شہبازشریف صرف 96 ووٹ حاصل کر سکے۔ نو منتخب وزیراعظم عمران خان کل 18اگست کو وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھائیں گے۔
قائد ایوان کے انتخاب کے لیے اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر ساڑھے تین بجے شروع ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ وزارت عظمٰی کے عہدے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے مابین مقابلہ ہوا جس میں عمران خان کامیاب ہوئے۔ عمران خان کو 176 ووٹ ملے جبکہ شہباز شریف نے 96 ووٹس حاصل کیے۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے رائے شماری مکمل ہونے کے بعد اعلان کیا اور کہا کہ عمران خان 176 ووٹ حاصل کر کے قائد ایوان منتخب ہوگئے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل شہباز شریف نے 96 ووٹ حاصل کیے۔ اسپیکر اسد قیصر کے اعلان کے بعد اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا جس پر اسپیکر اسمبلی اپوزیشن اراکین کو نشست پر بیٹھنے کا کہتے رہے ۔ دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی کے اعلان کے بعد نو منتخب وزیراعظم عمران خان کے چہرے پر مُسکراہٹ تھی اور وہ بار بار آسمان کی طرف تشکرانہ انداز میں دیکھتے رہے۔
قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے بجائے ڈویژن کے ذریعے ہوا اور ارکان اسمبلی نے ڈویژن کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ قومی اسمبلی کو دو لابیوں میں تقسیم کیا گیا۔ عمران خان کے حامیوں نے لابی ”اے” اور شہباز شریف کے حامیوں نے لابی ”بی” میں ووٹ کاسٹ کیا۔ ایوان زیریں میں پارٹی پوزیشن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے پاس 152 نشستیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس قومی اسمبلی میں 81 نشستیں ہیں۔
اس کے علاوہ ایوان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی 54 نشستیں، متحدہ مجلس عمل 15 ، متحدہ قومی مومنٹ 7 ، بلوچستان عوامی پارٹی 5، بی این پی مینگل 4، پاکستان مسلم لیگ (ق) 3، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) 3، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ایک نشست ہے جبکہ 4 نشستیں آزاد اُمیدواروں کے پاس ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی سپورٹ کو دیکھتے ہوئے خیال کیا جا رہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی 152 نشستوں کے ساتھ ساتھ متحدہ قومی مووومنٹ کے 7، پاکستان مسلم لیگ ق کے 3، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، بی این پی مینگل کے 4، جی ڈی اے کے 3، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے ایک ایک ممبر کی حمایت حاصل کرے گی جس سے پاکستان تحریک انصاف کی کی ایوان میں عددی قوت 176 بن جائے گی۔
لیکن پاکستان تحریک انصاف کو آزاد اُمیدواروں کی حمایت بھی حاصل ہوئی جس کی وجہ سے عمران خان 176 ووٹس حاصل کر سکے اور وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم کی نشست کے حصول کے لیے قومی اسمبلی میں کسی بھی اُمیدوار کو آئین کےآرٹیکل 91 کی شق 4 کے تحت ایوان کے مجموعی ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔342 کے ایوان میں 2 نشستوں پر انتخابات ملتوی ہوئے جبکہ 6 نشستیں پی ٹی آئی،، 2 نشستیں ق لیگ اور 1 نشست ن لیگ کے حمزہ شہباز کی جانب سے ایک سے زائد نشستوں پر کامیابی کے باعث خالی ہوئیں۔
اسی طرح ایک نشست این اے 215 پر پاکستان پیپلز پارٹی کے اُمیدوار کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کرنے کا حکم دیا گیا لیکن اب تک ایسا نہیں ہوسکا اور یوں فی الوقت ایوان 330 ارکان کا ہے۔ یاد رہے کہ قائد ایوان کے لیے 2013ء کے انتخابات میں میاں نواز شریف نے دو تہائی سے زائد یعنی 244 ووٹ حاصل کیے تھے اور ان کے مد مقابل اُمیدواروں مخدوم امین فہیم نے 42 ووٹ اور جاوید ہاشمی نے 31 ووٹ حاصل کیے تھے۔۔نوازشریف کی نااہلی کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے اُمیدوار شاہد خاقان عباسی 339 ووٹوں میں سے 221 ووٹ حاصل کر کے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں