وقوع قیامت کے دلائل

(گزشتہ سے پیوستہ) اسی طرح وہاںکسی اعتبار سے کوئی اخلاقیات نہیں ہے‘نہ جنسی اعتبارات سے‘ نہ رکھ رکھائو کے اعتبار سے اور نہ کسی اور اعتبار سے۔اس کے برعکس انسان کے اندر شرم و حیا ہے اور اس کے اندر ایک نفس لوامہ ہے۔جب وہ غلط کام کرتا ہے‘جھوٹ بولتا ہے تو اندر سے نفس ملامت کرتا ہے۔ کسی کا حق مارتا ہے توبظاہر اسے کامیابی ملتی ہے اور حیوانی نفس خوش ہو رہا ہوتا ہے‘ لیکن اندر سے فرشتے والا نفس آپ کو خبردار کر رہا ہوتا ہے کہ یہ کام تم نے غلط کیا ہے اور یہ تمہارا حق نہیں تھا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں اس ضمیر کے فیصلوں کے مطابق عملاً انصاف نہیں ہوتا اوریہاں ظالم پھلتے پھولتے ہیں۔ گویا ضمیر کی آواز اپنی جگہ‘لیکن یہاں دنیا میں تو اندھیر نگری ہے۔ اگر یہ ضمیر حق ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے مطابق انسانوں کو بدلہ ملنا چاہیے ۔ جس نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نیکی کے راستے کو اختیار کیا ہے تواسے انعام ملنا چاہیے اور جس نے دوسروں پر ظلم کیا ہے تو اس کو سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اس دنیا میں ایسا نہیں ہورہا۔اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ انسانی ضمیر بے معنی ہے‘لیکن حقیقت میں وہ بے معنی نہیں ہے اور انسانی ضمیر ہی بتا رہا ہے کہ ایک ایسا جہان ضرور ہونا چاہیے جہاں پر نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بھرپور صلہ دیا جائے اور جو ظالم ہیں ان کو بدترین سزا دی جائے‘ ورنہ تو یہ ساری کائنات اندھیر نگری ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر ایک شے کوبا مقصد بنایاہے۔ اسی طرح اللہ کی تخلیق کا شاہکار انسان بھی با مقصد پیدا کیا گیا ہے‘چنانچہ زیر مطالعہ آیت میں فرمایا کہ ذرا اپنے اندر جھانکو تو آپ کا اندر اس بات کی گواہی دے گا کہ ہمارا ایک خالق ومالک ہے اور قیامت واقع ہوکر رہے گی جہاں نیکوکاروں کو اُن کے اعمال کے مطابق انعام اور ظالموں کو ان کے ظلم کے مطابق سزاملے گی اور اس دن کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ ’’کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کر سکیں گے؟‘‘ قیامت کے حوالے سے بہت سارے اعتراض کیے جاتے تھے اورا ن میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ کیسے انسان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا۔تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ جس اللہ نے یہ پوری کائنات پیدا کی ہے تو کیا وہ انسان کو دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا۔ آج کے انسان کو چودہ سو سال پہلے کے انسان کے مقابلے میں زیادہ پتا ہے کہ اس کائنات کی وسعتیں کتنی ہیں اور اس کی کیا کیا شانیں ہیں جن کے بارے میں ہم بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ یہ سب ’’فطرت‘‘ کا کمال ہے۔ اس ایک لفظ کے پیچھے ہم اپنے ایمان کو غائب کر کے اللہ کو بیچ میں سے نکال دیتے ہیں اوراس پر غور نہیں کرتے کہ کون ہے جس نے ان تمام چیزوں کو پیدا کیا۔درحقیقت قدرت اور فطرت بہتخوبصورت عنوانات ہیں لیکن اس کے پس منظر میں اللہ کا انکار ہے۔چنانچہ زیر مطالعہ آیت میں فرمایا کہ وہ رب جس نے یہ ساری عظیم کائنات بنائی ہے تو کیا وہ تمہیں دوبارہ نہیں بنا سکے گا۔ ’’کیوں نہیں! ہم تو پوری طرح قادر ہیںاس پر بھی کہ ہم اس کی ایک ایک پور درست کر دیں۔‘‘ آج کے انسان کے لیے اس کے اندر بہت بڑی دلیل ہے۔ اُس وقت کے انسان کو نہیں معلوم تھا کہ ہر انسان کی انگلیوں کے پور( فنگرپرنٹس) مختلف ہوتے ہیں۔اگر کسی زمانے میں بنی نوعِ انسان چند سو تھے اور آج اگر سات ارب سے زائد ہیں اور مستقبل میںدس ارب بھی ہو جائیں تب بھی ہر انسان کے پور الگ الگ ہی ہوں گے۔ زیر مطالعہ آیت میں فرمایا کہ ہم تو اس پر بھی قادر ہیں کہ ایک ایک انسان کے پور کو درست کر دیں۔ اللہ اکبر!’’بلکہ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ فسق و فجور کو آگے بھی جاری رکھے۔‘‘ دنیوی زندگی کے اندر جس کو گناہوں کے‘لوٹنے کے اور لوگوں کا ناحق مال کھانے کے مواقع ملے ہوئے ہیں تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے اندر کمی نہ آئے۔ کیونکہ اگر ضمیر کی آواز پر لبیک کہے گا تو بہت ساری چیزوں کو چھوڑنا پڑے گا‘جبکہ یہ ان غلط کاموں کا عادی بن چکا ہے اور اب وہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ لہٰذاآسان حل یہ ہے کہ ڈھٹائی سے قیامت کا ہی انکار کر دو۔

’’وہ پوچھتا ہے : کب آئے گا قیامت کا دن؟‘‘ مشرکین عرب کا ایک اندازیہ تھا کہ وہ قیامت کے ٹائم ٹیبل کا پوچھتے تھے کہ کب آئے گی قیامت۔ایسا نہیں تھا کہ اگر انہیں بتا دیا جائے تو اس سے ان کا سارا عقدہ حل ہو جائے گا اور یہ قیامت پر یقین کرلیں گے‘بلکہ اصل میں یہ ان کے انکار ہی کا ایک طریقہ ہے۔ اس پر کہا گیا کہ آج انسان کو چھوٹ ہے‘لیکن وہ وقت آئے گا کہ: ’’پس جب نگاہیں چندھیا جائیں گی۔اور چاند بے نور ہوجائے گا۔اورسورج اور چاند یکجا کر دیے جائیں گے۔اُس دن انسان کہے گا : کہاں ہے کوئی بھاگ جانے کی جگہ؟(کہا جائے گا:)ہرگز نہیں‘ کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ ‘‘ جو کچھ رسولؐ بتاتے تھے وہ حقیقت بن کر سامنے آ گیا ہے‘لہٰذا اب وہ بھاگ جانے کی جگہ تلاش کر رہا ہے ‘لیکن اب کوئی چھپ جانے کی جگہ نہیں ہے۔ ’’اس روز تمہارے ربّ ہی کے حضور میں جا کر کھڑے ہوناہے۔‘‘ دنیا میں تمہارے پاس سارے اختیارات تھے‘لیکن اب کوئی اختیار نہیں ہے۔کوئی شخص کہے کہ میں میدانِ حشر میں نہیں جائوں گا تویہ اب اس کا اختیار نہیں ہے‘بلکہ اب وہی ہو گا جو اللہ چاہے گا اور جو اس نے پہلے سے انبیاء ورسلf کے ذریعے بتا رکھا ہے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے‘ اس کی فکر کرو۔ تمہیں اپنے مستقبل کی بڑی فکر رہتی ہے لیکن تمہاری آنکھیں اندھی ہیں کہ تمہیں صرف دنیا کا مستقبل نظر آ رہا ہے۔ جو اصل مستقبل ہے‘اسے تم بھلائے بیٹھے ہو۔ آج کی دانش کی انتہا یہ ہے کہ آخرت کو بھلا کر بس دنیا ہی کے اندر لگ جائو اور یہ دانش پاکستان کے اعتبار سے بد ترین انجام کا موجب بنے گی اگر ہم نے اسی کے اوپر اپناسفر جاری رکھا۔یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور اگر ہم نے اسلام سے اسی طرح غداری جاری رکھی تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں کو سمجھنے اور قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں