پاکستان کو فکراقبال و جناح کے مطابق اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنایا جائے

قوم آج اکہترواں یوم آزادی اس جوش و جذبے اور عہد کی تجدید کے ساتھ منارہی ہے کہ اس وطن عزیز کو افکار اقبال و جناح کی روشنی میں ایک اسلامی ، جمہوری اورفلاحی ریاست بنانے کے لئے باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر کام کرے گی حکمرانوں سے قوم کو بجا طور پر توقعات ہیں کہ وہ ملک کو اسکے بنیادی مقاصد کی روشنی میں آگے لے کر جائیں گے اور غلامی کی جن زنجیروں کو لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دے کر توڑا تھا ان میں دوبارہ جکڑنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا جائے گا ۔ امر واقع یہ ہے کہ پاکستان کا قیام شب قدر، جمعتہ الوداع ماہ رمضان المبارک 1368ھ بمطابق 14 اگست 1947 ء عمل میں آیا۔ ظہور پاکستان کا یہ عظیم دن محض اتفاق نہیں ہے بلکہ خالق و مالک کائنات کی اس عظیم حکمت عملی کا حصہ ہے ۔13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایاکہ ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔پاکستان کرئہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور وقت کی سفاک طاقتوں سے اس نظریہ کو منوانے کیلئے اسلامیان ہند نے جو ان گنت قربانیاں دیں اقوام عالم کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ بھی فرمایا تھا کہ پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ بار بار سامنے آتے رہے تھے ۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اور جو بے مثال جدوجہد کی ہے ۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت تھا اور انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ہماری رائے میں قیام پاکستان کی اس تاریخی جدوجہد میں یہ بات نظر آتی ہے کہ مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص پر مصر تھے، یہی نظریہ پاکستان اور علیحدہ وطن کے قیام کی دلیل تھی۔ ہر قسم کے جابرانہ و غلامانہ نظام سے بغاوت کرکے خالص اسلامی خطوط پر مبنی نظام حیات کی تشکیل ان کا مدعا اور مقصود تھا۔ جس کا اظہار و اعلان قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار اپنی تقاریر اور خطابات میں کیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج پاکستان کو ان رہنما خطوط کی روشنی میں ایک اسلامی ،جمہوری ملک بنانے کیلئے نئی برسر اقتدار آنے والی حکومت اور عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا نیا پاکستان اسی صورت میں بن سکتا ہے جب یہاںفوری انصاف ، احتساب سب کا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے لوٹ مار کرنے والوں کو سینے سے لگانے کی بجائے انہیں جیلوں کا راستہ دکھایا جائے ۔میرٹ کا قتل عام بند کیا جائے، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نظام مملکت چلایا جائے۔ قوم کو غیر ملکی قرضوں کی غلامی سے نجات دلائی جائے اور پاکستان،فوج اور عدلیہ کے خلاف اٹھنے والی آوازوںپر کان نہ دھرے جائیں، غلطیاں نہ دہرائی جائیں اور سادگی و کفایت شعاری کو ہر شعبے میں لایا جائے۔ بااثر اور کمزور طبقات میں فرق مٹایا جائے اور ملک کا کھویا ہوا وقار بحال کیا جائیانہیں اقدامات کے نتیجے میں قوم مطمئن ہوگی اور ملک کی سمت درست ہوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں