’احتساب شروع ہوچکا، کام نہ کرنے والے ججز کےخلاف بھی کارروائی ہوگی

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی ہوگی۔
سپریم کورٹ میں ہائیکورٹس کی ذیلی عدالتوں کے حوالے سے سپروائزی کردار سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
اس دوران چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) اب بہت فعال ہے اور احتساب کا عمل شروع ہوچکا ہے اور سب ججز کا احتساب ہوگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگ چیخ چیخ کر مررہے ہیں، انصاف نہیں مل رہا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بینچ نمبر ون نے 7 ہزار کیسز نمٹائے جبکہ ججز سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ 20 کیس نمٹائے، کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’ججز کو گاڑی، بنگلہ، مراعات چاہئیں، لوگ تڑپ رہے ہیں بلک رہے ہیں لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں ہے‘۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ججز کو چھٹی والے دن کی تنخواہ نہیں ملے گی اور اب کام نہ کرنے والے ججز کے خلاف بھی کارروائی ہوگی‘۔
انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اپنی سپروائزری ذمہ داریوں میں ناکام نظر آتی ہے، ہائیکورٹس کی نگران کمیٹیاں ان معاملات کو کیوں نہیں دیکھ رہیں؟
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہم ہائیکورٹ کی نگران کمیٹیوں کے ججز کو چمبر میں بلا کر ان کی کارکردگی پوچھیں؟ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہم ہائیکورٹ کے سپروائزری کردار سے مطمئن نہیں تو آپ کیا کہیں گے، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف نے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو متنازع تقریر کے معاملے پر ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں