برطرفی کسی صورت قبول نہیں۔۔۔شوکت عزیز صدیقی

سوموار تک سپریم کورٹ میں برطرفی کو چیلنج کیا جائے گا ، سپریم کورٹ سے وزارت قانون کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی جائے گی ۔ ذرائع
اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ کے برطرف جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق برطرف جج جسٹس شوکت عزیز اپنی برطرفی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیر تک درخواست جمع کروائی جائے گی۔
درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی جائے گی کہ وزارت قانون کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت صدیقی کے حوالے سے فیصلہ دیتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوائی گئی جس کی انہوں نے منظوری دے دی ۔
صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔ یاد رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی نے جولائی کے آخری ہفتے میں راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ اور اداروں پر الزامات عائد کیے تھے۔جس پرجسٹس شوکت صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں میں انکوائری کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔جسٹس شوکت نے اپنی متنازعہ تقریر میں اداروں پرججوں پر من مانے فیصلوں کے لیے دباؤ ڈالنے اورمن پسند ججز کی مختلف کیسز میں نامزدگی کے لیے بھی دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف کیسز میں من پسند ججز کی تقرری کے لیے چیف جسٹس پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس بیان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے مسترد کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف گھرکی تزئین وآرائش کے سلسلے میں بھی ایک کیس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل میں کیس کی سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں