عہدے سے ہٹائے جانےکا فیصلہ غیر متوقع نہیں، شوکت عزیز صدیقی

عہدے سے ہٹائے جانےکا فیصلہ غیر متوقع نہیں، شوکت عزیز صدیقی
اسلام آباد:عہدے سے ہٹائے جانے پر سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے رد عمل دیا کہ میرے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں، تقریبا 3 سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ آرائش کے نام پر شروع ہونے والے ایک بے بنیاد ریفرنس سے پوری کوشش کے باوجود جب کچھ نہ ملا تو ایک بار ایسوسی ایشن سے میرے خطاب کو جواز بنا لیا گیا، جس کا ایک ایک لفظ سچ پر مبنی تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے مطالبے اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود یہ ریفرنس کھلی عدالت میں نہیں چلایا گیا اور نہ ہی میری تقریر میں بیان کئے گئے حقائق کو جانچنے کے لیے کوئی کمیشن بنایا گیا۔
سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ میں اللہ کے فضل و کرم سے اپنے ضمیر، اپنی قوم اور اپنے منصب کے تقاضوں کے سامنے پوری طرح مطمئن اور سرخرو ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ انشا اللہ اپنا تفصیلی موقف بہت جلد عوام کے سامنے رکھوں گا اور ان حقائق سے بھی آگاہ کروں گا جو میں نے اپنے تحریری بیان میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھے تھے اور بتاوں گا کہ تقریبا نصف صدی بعد ہائی کورٹ کے ایک جج کو اس طرح معزول کرنے کے حقیقی اسباب کیا تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں