سعودائزیشن میں تیزی لانے کے لیے 68 نئے پروگرامز شروع

دمام(نیوزڈیسک) وزارت محنت و سماجی بہبود کی جانب سے سعودائزیشن کے عمل میں تیزی لانے کے لیے 68 نئے پروگرامز شروع کیے جا رہے ہیں۔ جس کے تحت پرائیویٹ سیکٹرز میں سعودی باشندوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں برسرروزگار کروا کر بے روزگاری کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جائے گی۔ ان 68 پروگرامز میں سے 20انفرادی نوعیت کے ہیں، 30کا تعلق کمپنیوں کے ساتھ ہے جبکہ 18 ایسے ہیں جن میں سرکاری اور نجی شعبے کا اشتراک ہو گا۔
ان نئے اصلاحی اقدامات کی بدولت اُن شعبوں میں سعودیوں کی زیادہ سے زیادہ بھرتی ہو سکے گی، جو غیر مُلکیوں کو سعودیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ ان کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ وہ سعودیوں کو کسی بھی ملازمت کے لیے پہلی ترجیح دیں، اگر کوئی سعودی باشندہ مطلوبہ مہارت اور قابلیت پر پُورا نہیں اُترتا تو پھر ایسی صورت میں غیر مُلکیوں کا انتخاب کیا جائے۔ نئے اقدامات کی بدولت نجی شعبے اور وزرت محنت میں رابطے اور تعاون میں اضافہ ہوگا اور مُلکی معیشت مزید ترقی کی طرف گامزن ہو گی۔ اس مقصد کے لیے ایک میگا پرائیویٹ سیکٹر کمپنی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ سرکاری شعبے میں ملازمتوں کی کمی کی صورت میں سعودی نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ نجی ملازمتیں دی جا سکیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مملکت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے دِن رات کوشاں ہیں۔ جس کے لیے انہوں نے وِژن 2030 ء پیش کیا جس کے تحت سعودی عرب مستقبل میں تیل کی پیداوار پر معیشت کے انحصار کو گھٹا دے گا۔
اس کے علاوہ سعودائزیشن پالیسی کے تحت سعودی باشندوں کی بڑی تعداد کو برسرروزگار کیا جا رہا ہے۔ کئی شعبوں میں غیر مُلکیوں کی بھرتی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ مُلک میں موجود مقامی افراد کی بیروزگاری کی شرح پر قابو پایا جا سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں