سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد : ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب،، کلیم امام اور احسن اقبال گجر کی معافی قبول کر لی۔ عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب،، کلیم امام اور احسن جمیل گجر کی معافی قبول کرتے ہوئے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ پر از خود نوٹس کیس نمٹا دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر آئندہ شکایت کا موقع ملا تو کیس دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جتنے دن میں ہوں، دو ڈھائی ماہ محتاط رہنا۔ احسن جمیل گجر ، یہاں گجر کی بدمعاشی نہیں چلے گی ،یہ پاکستان ہے۔ واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
کیس میں خاورمانیکا ، احسن جمیل گجر اور رضوان گوندل ، ڈی جی نیکٹاخالق دادلک اور آئی جی پنجاب کلیم امام عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے ڈی جی نیکٹا خالق داد لک کی انکوائری رپورٹ پر اپنا جواب جمع کروایا گیا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کا جواب عدالت میں پڑھا تو چیف جسٹس نے کہا آپ جوبھی کہہ لیں حقائق وہی رہیں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت سے کیس کو دوسرے زاویے سے دیکھنے کی استدعا کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معاملے کو جس زاویے سے بھی دیکھیں حقائق وہی رہیں گے۔
ڈی پی او کو بلانے کا معاملہ نمٹا بھی دیں گے لیکن 62 ون ایف کو تو دیکھنا ہے۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ پنجاب صادق اور امین ہیں؟ آپ نے خالق دادلک کی تحقیقاتی رپورٹ کو رد کردیا۔ اتنے قابل افسر پر ذاتی حملے کیے گئے ہیں، وزیراعلیٰ صاحب خود کو کیا سمجھتے ہیں، یہ ہے آپ کی حکومت جو ڈیلیور کرنے لگی ہے نیا پاکستان۔۔۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے جمع شدہ جوابات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں تو وزیراعلیٰ پنجاب کا جواب پڑھ کر حیران رہ گیا ،آرٹیکل 62 ایف ون کے تحت کارروائی کروائیں گے تو نیا پاکستان بن جائے گا، یہ ہے آپ کی حکومت جو ڈیلیور کرنے لگی ہے نیا پاکستان،،،چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت رہنے تک عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے۔
اگر عثمان بزدار وزیراعلیٰ پنجاب رہےتو عدالت کےحکم کے تحت رہیں گے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم قانون کی حکمرانی کی کوشش کر رہے ہیں ا ور آپ اس کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ کیا آپ وکلا ایسا رُول آف لاء چاہتے ہیں؟ جہاں رُول آف لاء کی بات آئے گی میں کسی لیڈر کو نہیں مانتا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ معاملہ حساس تھا اسی لیے احسن جمیل نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بات کی۔
چیف جسٹس کہا کہ وزیراعلیٰ نے تو ملاقات نہیں کی بلکہ پرائیویٹ شخص کو ملاقات کے لیے بُلایا۔ ایڈووکیٹ جنرل ، وزیراعلیٰ خالق داد لک سے متعلق کیا زبان استعمال کی؟ آپ ایک بہترین افسر کے بارے میں ایسا لکھ رہے ہیں۔ میں خود اس معاملے کی انکوائری کر لیتا ہوں۔ کہتے ہیں تو جے آئی ٹی بنوا لیتے ہیں۔ آپ نے انکوائری افسر پر ذاتی نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
آپ معافی کے دائرے سے باہر نکلتے جا رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل ، آپ اس معاملے کو آسان لے رہے ہیں۔ وکیل احسن جمیل نے کہا احسن جمیل گجر غیر مشروط معافی مانگتے ہیں اور خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑتے ہیں، ہم نے کوئی دوسری بات نہیں کرنی۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ خاور مانیکا زندہ ہیں ،یہ احسن جمیل ہے کون، آگئے ہیں اکٹھے ہوکر نیا پاکستان بنانے، کارسرکار میں مداخلت پر کیا دفعہ لگتی ہے۔
ڈی جی نیکٹا خالق دادلک نے جواب دیا کہ پاکستان پینل کوڈ186 لگتی ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کا جواب پڑھ حیران رہ گیا، وزیراعلیٰ کی جانب سے ایسا جواب بھی آسکتا ہے۔اے جی پنجاب نے کہا تحریری معافی جواب کے ساتھ اضافی طور پر جمع کراتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ کون ہیں جو تحقیقاتی افسر کی رپورٹ پر سوال اُٹھائیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب تیار کس نے کیا؟چیف جسٹس نے کہا ایڈووکیٹ جنرل صاحب کارسرکار میں مداخلت کی سزا بتائیں، کہا جاتا ہے جب تک پی ٹی آئی حکومت رہےگی یہ ہی وزیراعلیٰ رہیں گے، کیا یہ ہے نیا پاکستان۔۔ آ گئے ہیں اکٹھے ہو کر نیا پاکستان بنانے۔میری طرف سے اس حوالے سے وزیراعظم کو ناپسندیدگی کا بتا دیں ، میں تو پانچ دن میں اس بندے سے پریشان ہو گیا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ عدالت میں شرمساری کا اظہار کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ڈی پی او پلید ہو گیا تھا کہ آدھی رات کو اس کا تبادلہ کیا گیا ؟ جس پر سابق آئی جی کلیم امام نے عدالت مجں ندامت کا اظہار کیا۔ کلیم امام نے کہا کہ میں خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔ دوران سماعت احسن جمیل،،وزیراعلیٰ پنجاب اور سابق آئی جی پنجاب نےغیرمشروط معافی مانگ لی، عدالت نے کہا تینوں نے خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے ۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی غلطی کی تحریری معافی لکھ کر لائیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا آپ کی معافی کو پڑھنے کے بعد عدالت سوچے گی کیا کرنا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے وزیراعلیٰ کا جمع کرایا گیاجواب واپس لےلیا، ،احمد اویس نے کہا ہم نےغیر مشروط معافی مانگی اور پیش بھی ہوئے ، میں ان کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا خالق دادلک کی رپورٹ مبہم ہے، جس پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ میں کہا ذمہ دارافسرکےخلاف ایسی زبان استعمال کریں گے، عدالت رول آف لا کے لئے کام کررہی ہے۔
ڈی پی او اتنا پلید ہو گیا کہ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں اس کی شکل نہیں دیکھوں گا، دوران سماعت احسن بھون نے کہا کہ میں 1980ء سے احسن جمیل گجر کو جانتا ہوں۔ وکیل رہنما احسن بھون عدالت میں روسٹرم پر آئے تو عدالت نے انہیں منع کر دیا۔ وکیل احسن گجر نے کہا میں غیرمشروط معافی مانگتا ہوں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم معافی نہیں دینگے جیل کے اندربھی بھیجیں گے۔
عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب اور احسن جمیل کےجوابات پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا انکوائری افسر کا پنجاب حکومت سے کیا ذاتی عناد ہوسکتا ہے، احسن جمیل گجر نے سرکاری امور میں مداخلت کی، آرٹیکل 62ون ایف کے تحت انکوائری کرائیں گے تو نیا پاکستان بن جائے گا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ میں وزیراعلیٰ پنجاب کا جواب پڑھ کرحیران رہ گیا، کبھی منشا بم کی سفارش کی جاتی ہے تو کبھی کسی اورکی۔
منشا بم معاملہ انضباطی کارروائی کے لیے بھیجا ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ کرامت کھوکھر کا معاملہ پی ٹی آئی ڈسپلنری کمیٹی کو بھیجا، اس معاملے پر بھی کچھ نہیں ہوا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ایسا اقدام دوبارہ نہیں ہو گا، انکوائری افسر کے مطابق کسی کو براہ راست دھمکی نہیں دی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کارسرکار میں مداخلت میں 3سال جیل ہوسکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا وزیراعلیٰ کے احسن جمیل گجر بڑے تعلقات والےہیں، احسن جمیل گجر کی ایک فیملی کے ساتھ میرے تعلقات ہیں، وزیراعلیٰ نے ڈی پی او کو بلا کر احسن جمیل گجر کے روبرو بٹھا دیا۔ ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے معافی مانگتے ہیں ، وزیراعلیٰ پنجاب کے کسی اقدام میں بدنیتی نہیں تھی۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا وزیراعلیٰ پنجاب کی معافی کی نیت نظرنہیں آئی، ہمارےانکوائری افسر کو ذلیل کیا گیا، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا افسران کو ذلیل کرنا وزیراعلیٰ کی نیت نہیں تھی۔
چیف جسٹس نے کیس کی خود انکوائری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ کل وزیراعلیٰ کو بُلوا لیں خود انکوائری کریں گے۔ سماعت کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی کلیم امام، احسن جمیل گجر نے اپنے جوابات واپس لےلئے ۔ عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب اور سابق آئی جی امام کلیم کو تحریری معافی نامے عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی۔۔عدالت نے احسن اقبال جمیل گجر کو بھی تحریری معافی نامہ جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔ اورچیف جسٹس نے احسن جمیل گجر کو ہدایت کی تھی کہ معافی اسٹرانگ ورڈز میں مانگیں۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب،، امام کلیم اور احسن جمیل گجر کی معافی قبول کرتے ہوئے کیس کو نمٹا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں