منرل واٹر پینے والے ہو شیار ہو جا ئیں

منرل واٹر پینے والے ہو شیار ہو جا ئیں
لاہور(نیوز ڈیسک )سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں منرل واٹر کمپنیوں کے جانب سے مہنگے داموں پانی کی فروخت کےخلاف عدالت نے تمام نجی کمپنیوں کو حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے نوٹسز جاری کر دئیے۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی منرل واٹر کمپنی کے فرانزک آڈٹ کروانے کے معاملے پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی۔نجی کمپنی جانب سے بیرسٹر اعتزاز پیش ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق کمپنی کے ریکارڈ کے 81 ڈبے عدالت پہنچا دئیے ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ وہ کمپنی کے چیف فنانس آفیسر کو آڈٹ کیلئے مقرر کرے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کمپنی کے سی ای او طلبی کے باوجود پیش کیوں نہیں ہو رہے، انہیں بلائیں وہ آڈٹ کے دوران یہیں رہیں گے۔ عدالتی معاون نے بتایا کہ کمپنی نے 3 سال میں 2.7 بلین لیٹر پانی استعمال کیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کمپنی 25 سال سے پاکستان میں کام کر رہی، ایک لیٹر پر دو پیسےحکومت کو ادا کرنا کوئی ریٹ نہیں ہے۔ کم از کم نرخ 50 پیسے یا 1 روپیہ فی لیٹر ہونا چاہیئے۔ تمام ایڈووکیٹ جنرلز اور ماہرین کی کمیٹی بتائے کہ کمپنیوں کیلئے کیا نرخ مناسب ہو گا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پانی ملک کا سب سے بڑا ریسورس ہے جو مفت میں دیا جا رہا ہے۔کمپنیاں کرائے کی جگہ لے کر وہاں سے مفت کا پانی بیچ رہی ہے۔پانی کی صورت میں خام مال کے استعمال پر ٹیکس کس نے دینا ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وہ جلد پورٹ قاسم والی فیکٹری کا بھی خود دورہ کر کے دیکھیں گے کہ وہ پانی کہاں سے لے رہے ہیں۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے اعتراض کیا کہ آپ کے ریمارکس کی وجہ سے پراپرٹی کی ویلیو 50 فیصد گر گئی ہے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہاں لوگوں کو پتہ لگنا چاہیئے کہ اتنی بڑی کمپنی کا پانی ٹھیک نہیں ہے۔عدالت نے پانی مہنگے داموں فروخت کرنے اور خراب پانی بیچنے پر تمام منرل واٹر کمپنیوں اور تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں