سینکڑوں لوگ ہزاروں ڈالر خرچ کرکے نوجوانوں کا خون اپنے جسم میں داخل کروا رہے ہیں

امریکہ میں سینکڑوں لوگ ہزاروں ڈالر خرچ کرکے نوجوانوں کا خون اپنے جسم میں داخل کروا رہے ہیں۔
ایک کمپنی جس کا نام ’ایمبروسیا‘ ہے جو کیلیفورنیا میں ہی بنائی گئی ہے۔ یہ کمپنی نوجوانوں سے خون خرید کر اس کا پلازما امراءکو ہزاروں ڈالرز کے عوض فروخت کررہی ہیں۔ایمبروسیا ڈاکٹر جیسی کرمزین نے قائم کی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ ”ان کے پاس نوجوان خون لگوانے کے لیے آنے والوں کی اوسط عمر 60سال ہوتی ہے۔ ہم اپنے پاس آنے والے ہر شخص کے جسم میں 8ہزار ڈالر (تقریباً 9لاکھ 85ہزار روپے) کے عوض نوجوانوں کے خون سے نکالا گیا لگ بھگ اڑھائی لیٹر پلازما انجیکٹ کرتے ہیں۔اس عمل میں دو دن لگتے ہیں۔ اب تک ہمارے پاس جتنے لوگ آچکے ہیں ان میں دو تہائی مرد تھے۔ “
میل آن لائن کے مطابق کیلیفورنیا کی سٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں نوجوان خون میں ایک ایسا پروٹین پایا جاتا ہے جو جسم کو توانا کرنے کے ساتھ ساتھ دماغ کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور بوڑھے لوگوں میں نوجوان خون داخل کرنے سے ان میں عمررسیدگی کی علامات کم ہو جاتی ہیں۔چنانچہ امریکہ کے امیرکبیر لوگوں میں نوجوان خون لگوانے کا رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے اور ان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے وہاں کئی کمپنیاں قائم ہو چکی ہیں،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں