کیا آپ ہر عمر میں ذہنی طور پر اسمارٹ رہنا چاہتے ہیں؟

کیا آپ ہر عمر میں ذہنی طور پر اسمارٹ رہنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ خواہش تو ہر شخص کی ہوتی ہے مگر ایسا ممکن چند لوگ ہی کرپاتے ہیں۔
روزمرہ کی مصروفیات اکثر لوگوں کو ذہنی صلاحیتوں سے آہستہ آہستہ محروم کرسکتی ہیں اور اس سے بچنے کے لیے کچھ کوششوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔
درحقیقت یہ کوئی ایسا مشکل کام بھی نہیں چند عادتیں اپنا کر آپ اپنے دماغوں کو تیز کرسکتے ہیں۔
درج ذیل میں ایسے ہی چند عام عادتیں دی جارہی ہیں جو آپ کو ایک اسمارٹ فرد بنانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
روزانہ دس آئیڈیاز پیش کرنا
غربت کو کس طرح کم کیا جائے، روزمرہ کے مسائل کیسے حل ہوسکتے ہیں، دلچسپ فلموں کے خیالات یا کچھ بھی۔ اس بات کی اہمیت نہیں کہ آپ کے آئیڈیاز کس موضوع پر ہو بس آپ کے دماغ کو کام کرنا چاہئے جس سے ذہن کے مختلف گوشے مضبوط ہوتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ آپ اس طرح اپنے مسائل کو بھی زیادہ آسانی سے حل کرنا شروع کردیں۔
اخبارات پڑھنا
اس سے آپ کو دنیا بھر کے اہم معامالت سے آگاہ رہنے میں مدد ملے گی۔ اس سے آپ کو اپنی رائے تکیل دینے اور ایسی چیزوں سے جڑنے کا موقع ملے گا جو بظاہر غیر متعلقہ محسوس ہوتی ہیں، مگر سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ مختلف تقاریب یا دوستوں میں ہر موضوع پر پراعتماد انداز میں بات کرسکیں گے۔
کسی کتاب کا ایک باب پڑھنا
ایک ہفتے میں ایک کتاب کو پڑھنے کا عزم کرلیں، مطالعے کے لیے وقت نکالنا کوئی مشکل کام نہیں یہاں تک کہ دفتر جانے کے دوران بھی آپ بسوں میں یہ کام کرسکتے ہیں۔ اچھا مطالعہ ذہن کو تیز رکھنے کے ساتھ ساتھ اس مشغلے کو اپنانے والی برادری کو تلاش کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ فکشن کتابیں مختلف شخصیتوں کو سمجھنے کے لیے زبردستی ہوتی ہیں اور آپ کو زندگی کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ نان فکشن کتابیں نئے موضوعات جیسے سیاست یا نفسیات وغیرہ سے تعارف کا بہترین ذریعہ ہیں۔
جو خود سیکھیں وہ دوسروں سے شیئر کرنا
اگر آپ کسی خیال مباحثے اور خیال کا تجزیہ کرتے ہوئے کچھ دریافت کریں تو آپ اسے شیئر کرکے دیگر کی معلومات جان سکتے ہیں اور نئے تناظر حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح جب آپ کسی کے سامنے اپنے خیالات کی وضاحت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ اس تصور پر مہارت رکھتے ہیں اور ضروری نہیں بول کر ہی شیئر کیا جائے گا بلاگ لکھ کر یا ڈائری پر تحریر کرکے بھی یہ کام ممکن ہے۔
دو ٹو ڈو فہرستیں بنانا
ایک ٹو ڈو لسٹ اپنے کام سے متعلقہ صلاحیتوں کی بنائیں جو آپ سیکھنا چاہتے ہو اور دوسری وہ فہرست ان اشیاءکی جو آپ مستقبل میں حاصل کرنا چاہتے ہو۔ اس طرح آپ کے لیے اپنے مقاصد کا تعین کرنا اور اس کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
روزانہ کامیابیوں کی فہرست بنانا
ہر دن کے اختتام پر آپ تحریر کریں کہ آج آپ نے کیا کام کیا اور اسے کس حد تک مکمل کیا۔ اس سے آپ کو ان چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر بھی خوش ہونے میں مدد ملے گی خاص طور پر ان لمحات میں جب آپ خود کو افسردہ یا حوصلہ ٹوٹا ہوا محسوس کریں گے۔ اس سے یہ معلوم ہوگا کہ آپ اپنے کام میں کس حد تک بہتر ہیں۔
نہ کرنے والے کاموں کی فہرست بنانا
اپنے ذہنی انتشار کو صاف کرنے کے لیے اپنے وقت کے استعمال کو تحریر کردیں، پرانی عادتوں کو ترک اور نئی مگر بہتر کو اپنالیں۔ ایک کامیاب شخص اور بہت زیادہ کامیاب شخص کے درمیان فرق لگ بھگ ہر چیز کو انکار کرنا ہے۔
ذہن کو تحریک دینا
روزانہ دوڑنا دماغی روانی کا بہترین ذریعہ ہے اور اس سے ذہنی صحت بھی معمول پر رہتی ہے۔ اسی طرح مختلف فیصلوں یا نئی معلومات کا تجزیہ کرنا بھی ذہن کو تحریک دینے کے لیے بہترین مشق ثابت ہوتی ہے۔
کسی سے دلچسپ موضوع پر بات چیت
یہاں تک کہ اگر کوئی اجنبی بھی ہو تو اس سے بات کرنے میں ہچکچائیں مت، اس سے اس کی دلچسپیوں کے بارے میں پوچھیں اور جانے کہ اس کو ان میں دلچسپی کیسے ہوئی۔ اکثر اوقات آپ ایسے افراد سے زیادہ سیکھتے ہیں جن کو آپ بہت کم جانتے ہیں۔
اپنے سے زیادہ ذہین افراد کے ساتھ گھومنا
زیادہ سے زیادہ وقت ذہین یا اپنے سے زیادہ اسمارٹ افراد کے ساتھ گزاریں، روزانہ ایسے لوگوں کے ساتھ چہل قدمی آپ کی شخصیت میں نمایاں بہتری لاسکتی ہے۔ ہمیشہ عاجزانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے سیکھنے کا شوق ظاہر کریں۔ جتنے ہوسکیں سوالات کریں اور اگر آپ کے ارگرد آپ سے زیادہ علم رکھنے والے لوگ موجود ہیں تو آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔
اپنے مخصوص دائرے سے باہر نکلنا
اپنے مخصوص دائرے سے باہر نکلنا ہمیشہ ہی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، روزانہ اپنے آپ کو کچھ آگے بڑھانا، لوگوں کے سامنے بولنا، اپنے دفتر میں تجاویز پیش کرنا یا کوئی ایسا فرد جس سے آپ متاثر ہو، کو ایک خط یا ای میل بھیجنا سب ذہنی صلاحیتوں کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
گیمز کھیلنا
کچھ کھیل جیسے شطرنج آپ کے ذہن کو تیز کرتے ہیں، آپ خود اپنے آپ سے کھیل کر بھی چیلنج دے سکتے ہیں، اسی طرح آپ پزلز کو حل کرکے بھی یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں جبکہ اسکریبل جیسے گیمز بھی اس حوالے سے فائدہ مند ہے خاص طور پر جب آپ بغیر لغت کے اسے کھیلنے کی کوشش کریں۔
کچھ دیر تنہائی میں بیٹھنا
اکثر خاموشی سے بیٹھنا بھی آپ کو کچھ سیکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور آپ کو اپنے مسائل و عزائم پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ پورے دن میں اپنی خامیوں کو جانچ کر ان پر قابو پانے میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔
ورزش اور صحت بخش غذا
ایسی غذاﺅں کا انتخاب کریں جو دماغی توانائی فراہم کرسکیں جبکہ ایسے جنک فوڈ سے گریز کریں جو آپ کو سست کردیں۔ جب آپ توانائی میں کمی محسوس کریں تو چہل قدمی کریں، دماغ کو خون کی روانی جتنی بہتر ہوگی اس کی کارکردگی میں بھی اتنی ہی بہتر ہوگی۔
آپ کا اسمارٹ فون
اپنے فون کو قریب رکھنا ہوسکتا ہے آپ کو واضح طور پر سوچنے میں مدد دے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ آئی فون صارفین کو جب ایک پزل گیم کا حصہ بنایا گیا تو انہوں نے گیم میں زیادہ بہترین کارکردگی دکھائی۔ تحقیق کے مطابق فون کو لوگوں سے الگ کرنا ذہنی بے چینی اور بلڈ پریشر کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ محققین کے مطابق فون کو قریب رکھنا (مگر خاموش رکھنا) توجہ مرکوز رکھنے میں مددگار ہے۔
فطرت کے قریب رہنا
قدرتی مناظر کو دیکھنا ذہن کی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو 50 فیصد تک بہتر بناتی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ قدرتی مناظر کو دیکھنا تخلیقی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے، یہ ذہن کے اس حصے کے لیے فائدہ مند ہے جو کہ فیصلہ سازی، منصوبہ بندی اور اضطراب کو کنٹرول رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر کہیں گھومنے کا وقت نہیں تو ایک تحقیق کے مطابق ان مناظر کی تصاویر بھی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کافی ہے۔
سورج بھی فائدہ مند
آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ نیند کی کمی دماغی دھند کا باعث بنتی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ نیند ذہن کی صفائی میں مدد دیتی ہے ؟ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کے دوران دماغی خلیات زہریلے مواد کو خارج کرتے ہیں جو بیداری کے دوران دماغ میں اکھٹا ہوجاتا ہے۔ اچھی نیند ذہنی چوکنا پن، توجہ مرکوز کرنے، مسائل حل کرنے کی صلاحیت، سوچنے کی رفتار، منطقی سوچ اور یاداشت کو بہتر بناتی ہے۔
ایک وقت میں ایک چیز پر توجہ مرکوز کرنا
ملٹی ٹاسکنگ آپ کو ذہین ثابت نہیں کرتی، ایک وقت میں ایک سے زیادہ چیزوں پر توجہ مرکوز کرنا دماغی صلاحیت کو کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے، طبی ماہرین کے مطابق ملٹی ٹاسکنگ دماغی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے، ہمارا دماغ اس وقت زیادہ بہتر کام کرتا ہے جب اس پر بہت زیادہ بوجھ نہ ہو۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک وقت میں ایک چیز پر توجہ مرکوز کرنا دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔
نئی چیزوں کی کوشش
ہوسکتا ہے کہ کوئی نئی چیز آپ کو فائدہ مند نہ لگے، مگر اس کی کوشش کرنا مستقبل میں فائدہ پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر آپ کو کسی نئی صلاحیت سیکھنے کا موقع ملے یا کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں، تو پیچھے مت ہٹیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں