گوگل کروم صارفین کا براؤزنگ ڈیٹا اکھٹا کرنے لگا

گوگل کروم اس وقت سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا ویب براﺅزر ہے مگر اس کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔
برسوں سے کروم استعمال کرنے والے افراد کے براؤزنگ ڈیٹا گوگل تک پہنچنے سے روکنے کا آپشن دیا جارہا تھا۔مگر اب ایک انٹرنیٹ سیکیورٹی ماہر نے دریافت کیا ہے کہ گوگل نے خاموشی سے کروم میں چند تبدیلیاں کی ہیں۔
ان تبدیلیوں کے بعد جب صارفین کسی بھی گوگل سروس جیسے جی میل پر لاگ ان ہوتے ہیں، تو کروم خودکار طور پر صارفین کی اجازت کے بغیر براﺅزنگ ڈیٹا کو جمع کرنے لگتا ہے۔
گوگل کی جانب سے لاگ ان میں یہ تبدیلیاں گزشتہ دنوں کروم میں کی جانے والے نئے اضافے میں کی گئی تھیں اور صارفین کو ان سے آگاہ بھی نہیں کیا گیا۔
جان ہوپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو گرین نے اپنے ایک بلاگ میں بتایا کہ کسی بھی گوگل سروس پر لاگ ان ہوتے ہی کروم کے صارفین کا کروم براﺅزر سرفنگ کا ڈیٹا گوگل کو بھیجنے لگتا ہے۔
جب پروفیسر میتھیو گرین نے اس حوالے سے کروم انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا کہ صارفین کا براﺅزنگ ڈیٹا اس وقت تک کروم کی جانب سے ارسال نہیں کیا جاتا جب تک صارفین سائنک فیچر کو ایکٹیویٹ نہ کردیں۔
مگر اہم بات یہ ہے کہ اکثر صارفین کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ sync فیچر کو ایکٹیویٹ کرنے کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے اور وہ اکثر اس کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔گوگل کروم کی انجنیئر اور منیجر ایڈرینی پورٹر فیلٹ نے بھی ایک ٹوئیٹ میں لاگ ان عمل میں تبدیلی کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی صارف کا ڈیٹا گوگل کو ٹرانسفر اس وقت ہوگا جب وہ سائنک فیچر کو ایکٹیویٹ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں