وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنے بھائی محمد زبیرکو بطورگورنرپینشن دینے کی سمری مسترد کر دی

اسلام آباد :وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنے بھائی محمد زبیرکو قوانین ریلکس کر کے گورنر کے طور پرپینشن دینے کی سمری مسترد کر دی ۔ گورنر کو پنشن لینے کے لیے 2 سال تک گورنرکے طور پر کام کرنا لازمی ہوتا ہے۔ محمد زبیر نے18 ماہ بطور گورنر کام کیا ۔ وزیر خزانہ کے پاس اختیار ہے مگر اسد عمر نے قانون پر عمل کیا۔ تفصیلات کے مطابق سیاست کی دنیا میں دو بڑے نام اسد عمر اور محمد زبیر سگے بھائی ہیں تاہم دونوں کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے۔
اسد عمر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ہیں تو محمد زبیر ن لیگ کے رہنما ہیں۔۔ن لیگ کے دور حکومت میں محمد زبیر گورنر سندھ تعینات رہے۔2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو نئی حکومت میں وزارت خزانہ اسد عمر کے حصے میں آئی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنے بھائی محمد زبیرکو قوانین ریلکس کر کے گورنر کے طور پرپینشن دینے کی سمری مسترد کر دی ہے۔کیونکہ کسی بھی گورنر کو پینشن دینے کے لیے 2 سال کام کرنے کی مدت درکار ہوتی ہے۔تاہم محمد زبیر نے اس سے کم عرصہ بطور گورنر سندھ کام کیا۔محمد زبیرنے18 ماہ بطور گورنر کام کیا ۔وزیر خزانہ کے پاس اختیار ہے مگر اسد عمر نے قانون پر عمل کیا۔ محمد زبیر نے ن لیگ کی حکومت میں فروری 2017ء میں گورنر سندھ کا عہدہ سنبھالا تھا۔اور نئی حکومت کے آنے بعد اگست میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔وہ قریبا ڈیرھ سال گورنر سندھ رہے۔تاہم محمد محمد زبیر کا کہنا ہے کہ
وزیر خزانہ اسد عمر نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی پینشن لینے کی کبھی بھی خواہش نہیں رہی۔گورنر سندھ ماہانہ صرف 80,000 تنخواہ لیتا ہے جب کہ اس کی پینشن 64,000 بنتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں