روس ، ترکی اور ایران نے امریکہ کوددیا کرارا جواب ، ٹرمپ پر سکتہ طاری

اسلام آباد(نیو زڈیسک) ایران،ترکی اور روس تجارت کے لیے مقامی کرنسی کا استعمال کریں گے۔ترکی کے نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی نے ایران کے مرکزی بینگ کے سربراہ عبدالناصر ہمتی کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ تینوں ممالک اب مقامی کرنسیون میں تجارتی لین دین کریں گے۔ٹی آر ٹی کے مطابق عبدالناصر ہمتی نے ذرائع ابلاغ کوبتایا کہ وہ جلد ہی ترک اور روسی مرکزی بینکوں کے سربراہوں سے ملاقات کر یں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مطابقت پر عمل درآمد کے لیے کوششیں تیز کرنے کا بھی مطالبہ کریں گے۔ 7 ستمبر کو تہران میں ہوئے سہ فریقی اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے صدور کے مابین گیس،پٹرول اور دیگر بنیادی اشیا کی خرید و فروخت اور مشترکہ بینک کاری کے موضوعات پر مفاہمت طے پائی تھی۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اگست 2018 میں کہا تھا کہ حکومت چین، روس اور یوکرین کے ساتھ تجارتی لین دین مقامی کرنسی میں کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ترکی کسی بحرا ن سے دوچار نہیں ہے اورنہ ہی ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔رجب طیب ایردوان نیبحیرہ اسود کے ساحلی قصبے ریزا میں اپنی پارٹی جسٹس اینڈ پیس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کرنسی کا اتارچڑھا اس اقتصادی جنگ کے میزائل ہیں جس کا ترکی کو سامنا ہے۔انہوں نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ جولائی 2016 میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش ہوئی اور اب وہی ملک ہماری معیشت کوہدف بنانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہمارا بھی عہد ہے کہ اس کا مقابلہ کریں گے۔ترکی کے صدر نے واضح کیا تھا کہ لیرا کے خلا ف کی گئی سازش سے نکلنے کا یہی طریقہ ہے کہ پیداوار کو بڑھایا جائے اور سود کی شرح میں کمی لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں