پاکستانی چاول کے تقریباًً 600کنٹینر کینیا کی بندرگاہوں پر کلیئرنس کے منتظر

کراچی (نیوزڈیسک) رائس ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین چوہدری سمیع اللہ نعیم نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہو ئے بتایا کہ کینیا کے کسٹم حکام کی وجہ سے پاکستانی چاو ل کے تقریباًً 600کنٹینر کینیا کی بندر گاہوں پر تاحال ریلیز نہیں ہوئے ہیں ۔ کینیا کے حکومتی ادارے کینیا بیورو آف اسٹینڈرڈز اور کسٹم حکام نے کنٹینر کی ریلیز کو 100فیصد اسکروٹنی اور تصدیقی عمل سے مشروط کر دیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے کیونکہ چاول کے کنٹینر مطلوبہ سرٹیفیکیٹ اور تصدیقی عمل سے گزرنے کے بعد اگست کے مہینے سے کینیا کی بندر گاہوں پر پہنچے ہوئے ہیں ۔
کینیا کے حکومتی اداروں کے تجویز کردہ انسپکشن کمپنیوں مثلاًً SGS, Intertek, Bureau Veritas کے تصدیقی سر ٹیفیکٹ کے باوجود ان کنٹینروں کا دوبارہ انسپکشن کیا جارہا ہے جسکی وجہ سے ان پھنسے ہوئے کنٹینروں پر پورٹ کے بھاری چارجز اور جرمانے کا سامنا ہے اور پاکستانی چاول کی زمینی لاگت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ بدقسمتی سے کینیا کے ادارے میں صرف ایک لیبارٹری ہے جو نیروبی میں ہے جبکہ ہمارے کنٹینر ممباسا میں پھنسے ہو ئے ہیں اس وجہ سے ان کنٹینروں کی ٹیسٹنگ پروسیس میں تاخیر ہورہی ہے ۔ ایک طرف تو کچھ ٹیسٹ مثلاًً Aflatoxin, Pesticide, Micro Biologyوغیرہ نیروبی میں کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری طرف چاول کے بروکن فیصد کی تصدیق ممباسا میں کی جارہی ہے اور 2تا5فیصد اضافی بروکن والے چاول کو بھی ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جسکی وجہ سے ہمارے چاول کی ٹریڈ کو بھیانک نتائج کا سامنا ہے کیونکہ زرعی کموڈٹی میں دو فیصد کی اونچ نیچ قابل قبول ہوتی ہے ۔ اس وجہ سے کینیا کو چاول کی بر آمدات کو شدید خطرات کا سامنا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دو طرفہ تجارت کو یکساں مواقع حاصل ہوں مگر کینیا میں پاکستانی سفیر اور کمرشل قونصلر کی مسلسل محنت اور مداخلت کے باوجود کینیا کے حکام ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے ۔
کینیا پاکستانی چاول کا سب سے بڑا خریدار ہے اور ہم اس مارکیٹ کو کھونے کا خطرہ نہیں مول لے سکتے ۔ اس سلسلے میں REAPکا ایک وفد سینیئر وائس چیئرمین رفیق سلیمان کی قیادت میں کینیا میں موجود ہے جو پاکستان کے کمرشل قونصلر زاہد قدیر کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے مگر یہ مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے کیونکہ نیروبی شہر میں کینیا کے حکام نے ممباسا کے حکام کو ابھی تک ہدایات جاری نہیں کی ہے جو کہ سراسر نا انصافی والا اقدام ہے ۔ چاول کی اسکروٹنی محض کینیا کی پورٹ پر موجود چاول کے کنٹینر ز تک محدود نہیں ہے بلکہ جو کنٹینر پہلے سے پہنچے ہوئے ہیں اور کینیا کے حکومتی اداروں سے فائنل ریلیز آرڈر وصول ہونے کا باوجود انکا بھی دوبارہ ٹیسٹ کیا جارہا ہے اور ان اداروں کے اسٹاف ہمارے گوداموں میں موجود چاول سے بھی ٹیسٹ کیلئے بضد ہیں جوکہ پہلے ہی مظلوبہ سر ٹیفیکٹ کے بعد کسٹم سے ریلیز سر ٹیفیکٹ حاصل کر چکے ہیں ۔ پاکستان کینیا کی چائے کا دوسرا سب سے بڑا امپورٹر ہے جبکہ ہمیں دو طرفہ تجارت میں عدم توازن کا سامنا ہے ۔ حکومت پاکستان نے ہمیشہ کینیا کی چائے کے بر آمد کنندگان کو پاکستان میں سہولیات فراہم کی ہیں اور ہم کینیا کی حکومت سے بھی یکساں سہولت کی توقع رکھتے ہیں ۔ اس مسئلہ کے حل کیلئے بہتر تجویز تو یہ ہے کہ کمرشل مارکیٹ میں بیچنے سے پہلے خریدار کے گوداموں پر مطلوبہ ٹیسٹ کر لئے جائیں اور ٹیسٹ کا طریقہ کار ہمارے ممبران کو اعتماد فراہم کرے بجائے اسکے کہ ہمارے چاول کی امپورٹ کو تکنیکی وجوہات کا نشانہ بنا کر محدود کرنے کی کوشش کی جائے ۔ موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ پاکستانی چاول کو کینیا میں محدود کیا جارہا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنی تقریر میں پہلے ہی اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ تمام ممالک سے ہمارے تجارتی تعلقات دو طرفہ تعاون کے ساتھ ہونے چاہیئیں ایک دوسرے کو یکساں عزت اور مرتبہ دیا جائے اور دوسرے فریق سے بھی اسی توازنکی امید رکھی جائے ۔ مگر وزیر اعظم پاکستان کا یہ پیغام کینیا کی وزارت خارجہ کو براہ راست دینے کی ضرورت ہے ۔ یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ فروری 2018میں کینیا کے حکومتی اداروں نے پاکستانی رائس امپورٹرز کے گوداموں پر تالا لگادیا تھا اور انکے اسٹاف کو منی لانڈرنگ ، دہشت گردی میں مالیاتی سہولت ، جعلی پاسپورٹ اور جعلی ویزے کے الزامات لگا کر حراست میں لے لیا گیا تھا اسوقت کینیا میں پاکستان کے سفیر نے کینیا کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کر کے انکو قائل کر دیا تھا کہ پاکستان کے چاول کے تاجروں پر یہ جعلی اور جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں جسکے بعد ان تمام افراد کو رہا کر دیا گیا تھا ۔ REAPکے چیئرمین چوہدری سمیع اللہ نعیم نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کینیا کی مصنوعات کو بھی یکساں اسکروٹنی کے مراحل سے گزارنے کی ضمانت دی جائے کیونکہ ہمارے صارفین کی صحت اورتحفظ بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے اور ہمیں پاکستانی صارفین کو کم درجے کی کینیائی مصنوعات سے تحفظ فراہم کرنا ہوگا جو پاکستا ن میں در آمد کی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں مطلوبہ اقدامات کی سخت ضرورت ہے جب تک اس معاملے کو وزارت خارجہ کی سطح پر نہیں ہینڈل کیا جاتا ،کینیا میں پاکستان کی چاول کی بر آمدات )چار لاکھ 75ہزار میٹرک ٹن سالانہ ، کل بر آمدات کا تقریباًً 12فیصد حصہ (کو ہمیشہ خطرات لاحق رہیں گے جسکی وجہ سے ہمارا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتا رہے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں