پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ

احسان مانی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہونے کے ناطے مالی امور کے ماہر ہیں۔ آئی سی سی میں خدمات انجام دینے کے دوران انہوں نے ادارے کو مالی معاملات میں بہتری اور اضافے کےلئے مختلف تجاویز بھی دیں۔ اب وہ سربراہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی حیثیت سے اس ادارے کے مالی امور بہتر بنانے کے لئے یقیناً اقدامات کریں گے۔ ابھی شاید تو بورڈ میں مختلف عہدوں پر فائز سابق کرکٹرز اورٹیم کے کھلاڑیوں کے اخلاقیات اور کرکٹ کے ایکشن درست کرانے میں مصروف ہیں۔ ماضی پر نظر ڈالیں تو اس طرح کی کوششوں میں کھلاڑی کا ایکشن درست ہوتا تو اس کا کریکٹرمشکوک ہوجاتا کریکٹر پر توجہ دیں تو کھیل خراب ۔ ان سب چکروں میں بورڈ کی مالی مشکلات دورکرنے کی طرف توجہ نہیں ہو پاتی تھی۔ تاہم آج کرکٹ بورڈ کے مالی حالات بہت بہتر ہیں اور ان میں مزید بہتری کی گنجائش بھی خوب ہے۔ مانی صاحب کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ مالی معاملات میں شفافیت لانے اور درست استعمال کے لیے اقدامات کریں گے۔ پاکستان ٹیم جو ماضی میں دنیا کی نمبر ون ٹیم رہی ہے ،عمران کے وزیر اعظم اور مانی کے بورڈ سربراہ بننے کے بعد ایک بار پھر بہت جلد نمبر ون ٹیم بن جائےگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں