صدارتی انتخابات میں اپوزیشن نے بازی پلٹ دی اعتزاز احسن کو کتنے ووٹوں کی برتری حاصل ہو گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کو صدارتی انتخاب میں 3 سے 4 ووٹوں کی برتری حاصل ہے تا ہم تقسیم کی صورت میں عارف علوی باآسانی صدرمنتخب ہو جائیں گے۔ مولانافضل الرحمن کو متحدہ اپوزیشن کی قیادت کی پیش کش کی تھی مگر خود صدارتی امیدوار بن کر انہوں نے مایوس کیا جبکہ اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار تسلیم نہ کرنے کے لئے شہباز شریف پر دباؤ ہے۔لیکن ہم ہر صورت پارلیمنٹ میں رہ کر احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔
جمعرات کے روز نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے خود کو صدارتی امیدوار نامزد کر کے سنبھالنے کی پیش کس کی تھی خورشید شاہ نے کہا کہ آصف زرداری نے صدارتی امیدوار بننے سے خود انکار کیا جبکہ شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا ووٹ نہ دینے کوصدارتی انتخاب سے نہ جوڑا جائے کیونکہ شہباز شریف کا نام مسلم لیگ ن کے بجائے ہم نے تجویز کیا جو بعد ازاں واپس لے لیا گیا تا ہم ا عتزاز احسن کو صدارتی امیدوار تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے شہبازشریف کسی دباؤ کاشکار ہیں حالانکہ اس سے قبل مسلم لیگ ن اعتزاز احسن کی مشروط حمایت پر رضا مند تھی انہوں نے کہا کہ بطور سیاسی ورکر سیاست سے کبھی مایوس نہیں ہوا اور پارلیمنٹ میں رہ کر احتجاج کا قائل ہوں کیونکہ معاملات لڑائی جھگڑے سے حل نہیں ہوتے ۔
خورشید نے کہا کہ چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہم نے ووٹ دے کر منتخب کرایا اور بلا جواز ہٹانا بخیر اخلاقی ہوتا اس لئے ایسی کسی تجویزپر غور نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں برتری حاصل ہے تا ہم اپوزیشن کی تقسیم عارف علوی کی آسان فتح کی راہ ہموار کر دے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں